20 فروری 2026 - 23:47
کیا جنگ ہوگی؟ / ایران کی طرف کے ایک سیکورٹی کوڈ نے جنگ روک دی ہے!

تہران کی طرف سے ایک 'سیکورٹی کوڈ' کی ترسیل کی وجہ سے اطراف کے اقدامات تبدیل ہو گئے اور ایک سگنل پیدا ہؤا جس نے ٹرمپ اور سینٹکام کے ابتدائی اندازے کو غلط ثابت کر دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || کچھ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ مذاکرات موجودہ مرحلے میں اس نقطے پر پہنچے ہیں کہ ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے جے ڈی وینس کے نقطہ نظر ـ یعنی جوہری شعبے پر توجہ مرکوز کرنے ـ سے اتفاق کر لیا ہے۔

یہاں تک کہ نیتن یاہو کے دورہ واشنگٹن کے اہم پہلوؤں میں سے ایک کو یہی نکتہ سمجھنا چاہئے؛ لیکن اس سلسلے میں ٹرمپ اور وینس کا موقف اور یہاں تک کہ نیتن یاہو کے موقف کے بین السطور ـ غیر تحریری باتوں ـ سے ظاہر ہوتا ہے کہ  ظاہر کرتی ہیں کہ واشنگٹن (کم از کم موجودہ دور میں) ایران کے ساتھ جوہری معاملے پر معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

اس سے قبل صہیونی بھرپور دباؤ ڈال رہے تھے کہ وقتی معاہدے کے بجائے ایران کے خلاف فوجی حملے اور سخت کارروائی کو ترجیح دی جائے اور کارروائی کے لئے محدود اور سنہری موقع کی کھڑکی کی بات کر رہے تھے، وائٹ ہاؤس میں بھی بنیادی لائن یہ تھی کہ چار معاملات یعنی جوہری، میزائل، علاقائی اور نام نہاد انسانی حقوق (بشمول حالیہ فسادات) کو بیک وقت آگے بڑھایا جائے، لیکن حالیہ واقعات کی وجہ سے بنیادی توجہ جوہری معاملے پر مرکوز ہو گئی اور اسی بات کو ایران کے لئے ایک اہم کامیابی قرار دیا جا سکتا ہے۔

جوہری معاملے میں واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان نقطہ نظر کا فرق واضح ہے۔ امریکہ کی بنیادی خواہش اور اُس کی سرخ لکیر یہ ہے کہ ایران میں افزودگی نہیں ہونی چاہئے اور افزودہ یورینیم کے کے مسئلے کا بھی فیصلہ ہو جائے، جبکہ ایران کی اعلان کردہ سرخ لکیر افزودگی کے حق کا تحفظ ہے اور وہ اس میں کوئی رعایت نہیں دینا چاہتا۔

اس دوران صہیونیوں کا اصرار ہے کہ سعد آباد معاہدے کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ افزودگی کی معطلی بھی ایران کے جوہری خطرے کو دور نہیں کرے گی اور مستقبل کے معاہدے میں توازن کا نقطہ ایران کی جوہری معطلی سے آگے ہونا چاہئے تاکہ یہ خطرہ 'ممکنہ طور پر بھی' ختم ہو جائے۔

آیا ایران و آمریکا در آستانه یک جنگ فراگیر منطقه‌ای قرار دارند؟ / ارسال یک کد امنیتی که باعث توقف جنگ شده است!

ایسا لگتا ہے کہ حالیہ پیش رفت کا مرکزی نقطہ انہی دو نکات میں سمجھا جانا چاہئے:

1۔ پہلے، فریقین کے درمیان اختلاف شدید اور فاصلے کی سطح کہیں زیادہ گہری تھی کیونکہ امریکی فریق چار معاملات جوہری، میزائل، علاقائی اور انسانی حقوق میں تہران کو اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کرنے خواب دیکھ رہا تھا۔ ان چار معاملات کا موازنہ کریں تو کہا جا سکتا ہے کہ کم از کم اختلاف جوہری میدان میں ہے، یہاں تک کہ اس اختلاف کا موازنہ کسی بھی طرح دیگر تین دیگر شعبوں سے نہیں کیا جا سکتا؛ یہی کہ اب واشنگٹن تخفیف کی طرف آ گیا ہے اور دیگر تین معاملات کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کر چکا ہے، یہ صورت حال، کم از کم معاہدے تک پہنچنے اور فوجی حملے سے بچنے کا راستہ کھول دیتی ہے۔

2۔ جوہری معاملے میں ایران کی سرخ لکیر افزودگی کے حق کا تحفظ ہے اور مخالف فریق کی سرخ لکیر ایران کا جوہری ہتھیاروں کی طرف نہ بڑھنا ہے؛ اس دوران مخالف فریق کے مطالبات کی سطح ایران میں افزودگی کے پورے چکر کا خاتمہ اور 60 فیصد یورینیم کا مکمل اخراج اور 1.5 فیصد سے زائد یورینیم کا فیصلہ کرنا ہے جبکہ ایران کے مطالبات کی سطح ملک کے اندر افزودگی کی ایک سطح کو برقرار رکھنا ہے۔

اس مرحلے میں ٹرمپ جنگ کے سائے اور دھمکی کو برقرار رکھ کر تہران کو مزید لچک دکھانے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ فریقین ایک متعینہ توازن کے نقطہ پر معاہدے تک پہنچ جائیں۔ اس طرح ان کے بیانات دوسرے بحری بیڑے کو مغربی ایشیا بھیجنے کے آپشن پر غور کرنے یا ڈیلٹا فورس میرینز کو ایران کے شمالی پڑوسی ممالک میں بھیجنے کی خیروں کو اسی تناظر میں دیکھنا چاہئے۔

کونسی چیز ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ روکنے کا باعث ہے؟

اب بنیادی سوال یہ ہے کہ مذاکرات کے عمل اور میدانی پیش رفت کے پیش نظر مستقبل کے لئے کیا امکانات ہیں؟ اس سلسلے میں کہا جا سکتا ہے کہ فی الحال مذاکرات کے لئے ایک مخصوص عارضی کھڑکی کھل گئی ہے اور ٹرمپ بھی ان مذاکرات کے فریم ورک میں تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا پسند کرتا ہے تاکہ اسے داخلی اور بین الاقوامی سطح پر 'فروخت' کر سکے۔ لیکن ٹرمپ کے خیال میں، اس معاہدے کا ماحول بھی ایسا ہونا چاہئے کہ وہ اسے اپنی بڑی کامیابی اور اپنی کارروائیوں کا نتیجہ سمجھ لے اور اس کا موازنہ جوہری معاہدے (JCPOA) سے کر سکے جو ڈیموکریٹ جماعت کی حکومت نے حاصل کیا تھا؛ علاوہ ازیں، اسرائیلیوں کی ماحول سازی سے متاثرہ بنیاد پرستانہ اور جاہ طلبانہ رجحانات کو بھی مطمئن کر دے، جو اس موقع کو مبینہ طور پر "رژیم چینج کے لئے محدود موقع کی کھڑکی" قرار دیتے ہیں۔

ایسے ماحول میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اس وقتی موقع کی مدت میں ایران پر حملہ کیا جائے گا؟ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا:

"میرا خیال ہے کہ اگلے مہینے میں... انہیں بہت جلد معاہدہ کر لینا چاہیے، اگر وہ معاہدہ نہیں کرتے تو پھر کہانی بالکل مختلف ہو گی۔"

زیادہ تر مبصرین کا اندازہ یہی تھا کہ امریکہ نے یہاں ایران کو ایک ماہ کی مہلت دی ہے دوسری طرف مشہور صہیونی صحافی بین کاسپٹ (Ben Caspit) نے ال مانیٹر (AL-Monitor) کے لئے ایک رپورٹ میں نیتن یاہو کے قریبی ذریعے کے حوالے سے لکھا: "جہاں تک ہم جانتے ہیں ٹرمپ نے مذاکرات کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے وہ ایک یا دو ماہ کی ڈیڈ لائن کی بات کر رہے ہیں جو کافی وقت ہے۔" جس سے بہت سے لوگوں کا اندازہ یہی ہے کہ اس مرحلے میں ٹائم لائن وہی بڑا پتھر ہے جسے اٹھانا حملہ نہ کرنے کی علامت ہے۔

تہران کے ذریعے ٹرمپ کے ماحولیاتی بنیاد پرستی پر قابو پانا

نہ صرف نتانیاہو بلکہ امریکہ میں موجود بنیاد پرست رجحانات ـ جیسے لنڈسے گراہم اور ٹام کاٹن، ہیگستھ اور روبیو (Lindsey Graham,Tom Cotton, Pete Hegseth and Marco Rubio) ـ جیسے بعض وزرا‏‏ئے کابینہ کی کسی حد تک حمایت کے ساتھ، اس بات کے خواہاں تھے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں 4 معاملات جوہری، میزائل، علاقائی اور ایران کے داخلی مسائل شامل ہوں؛ لیکن آخر کار ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا واحد راستہ یہ ہے کہ فریقین عمومی موضوعات پر متفق ہوں اور وہ ایسے موضوع کو بحث میں نہیں لا سکتا جنہیں ایران ناقابلِ مذاکرہ اور ناقابل سمجھوتہ سمجھتا ہے۔ یہاں تک، کہا جا سکتا ہے کہ نیتن یاہو اور واشنگٹن میں انتہا پسند عناصر ایران کے مقابلے میں شکست کھا چکے ہیں اور یہاں تک کہ ٹرمپ بھی اس سلسلے میں ان کے ساتھ (مکمل) ہم آہنگی نہیں رکھتے۔

اگلا مسئلہ یہ سوال اٹھانا ہے کہ کیا واقعی نیتن یاہو کا واشنگٹن کا دورہ لاحاصل رہا یا فریقین ایک دوسرے پر اس قدر اعتماد رکھتے ہیں کہ تہران کو دھوکہ دینے کے لئے، یہ ظاہر کرنے کا فیصلہ کر دیتے ہیں کہ 'وہ مفاہمت تک نہیں پہنچے ہیں؟ اس موضوع پر امریکی سیاسی سائنسدان "میئر شیمر" نے دلچسپ جواب دیا ہے؛ وہ کہتے ہیں:

"ہمارے پاس ایران کے معاملے میں کوئی موثر فوجی آپشن نہیں ہے۔ ایران پر حملہ نہ تو رژیم چینج کا سبب بنے گا اور نہ ہی اس ملک کی میزائل صلاحیت کو ہمیشہ کے لئے ختم کرے گا۔ میں ایسی صورت حال کا تصور نہیں کر سکتا جس میں ایران کے ساتھ جنگ کسی طرح امریکہ کے لئے خوشگوار انجام پر پہنچ سکتا ہے۔"

اگلا مسئلہ حالیہ دورے میں نتانیاہو اور ٹرمپ کے موقف کا اپریل 2025 کے اوائل میں ان کے موقف سے موازنہ ہو سکتا ہے، اس وقت نتانیاہو نے ایک 'مخصوص کوڈ' دیا تھا جو پس پردہ مفاہمتوں کی طرف اشارہ تھا، اس نے اس موقع پر "لیبیا طرز کے مذاکرات" کی تجویز کی حمایت کی تھی جبکہ وہ کم از کم 2006 سے وہ ہمیشہ تہران کے ساتھ کسی بھی مذاکرات اور معاہدے کا مخالف رہا تھا اور یہ پہلی بار تھا کہ اس نے اس طرح کا موقف اختیار کیا تھا۔

اس وقت کے نیتن یاہو کے موقف میں یہ ظاہری تبدیلی بتا رہی تھی کہ پس پردہ مشاورت اور مفاہمت ہو چکی ہے جو دو ماہ بعد صہیونیوں کی ایران پر جارحیت کی صورت میں سامنے آئی لیکن اس بار نہ تو ٹرمپ کے موقف میں اور نہ ہی نتانیاہو کے موقف میں یہ کوڈ نہیں دکھائی رہا تھا۔

آج مخالف فریق کی طرف سے کوئی خاص کوڈ نہ دیئے جانے کی اہم ترین وجہ تہران کی طرف سے ایک 'کوڈ کی ترسیل' ا ہے جس نے قاعدے کو بدل کرکے رکھ دیا دیا، اندرونی ماحولیاتی اقدامات اس انداز سے آگے بڑھے ہیں کہ بیرون ملک "علاقائی جنگ" کا سگنل اچھی طرح سنا اور دیکھا گیا ہے اور یہ پیغام بھیج دیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ محدود نہیں ہوگی، اس مسئلے کی وجہ سے اندازے یہ ہیں کہ یا تو کوئی تصادم نہیں ہو گا یا اگر ہوتا ہے تو طاقت کا فیصلہ اور تیاری یہ ہے کہ ایران کا جوابی اقدام بہت نمایاں اور قابل توجہ ہوگا۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر:

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha